What will happen to my Pakistan?


محترم فرید احمد پراچہ کی وال سے کاپی

‏میرے پاکستان تیرا کیا ہو گا؟
گندم فراڈ کی مکمل کہانی
آج جو کسان رل رہے ہیں گندم کی فصل کٹی پڑی ہے اور حکومت اسے خرید نہیں رہی اس کہانی کی ابتدا آج نہیں بلکہ تب شروع ہوئی جب باجوہ اور رجیم چینج کے بعد شہباز حکومت 
 نے یوکرین کی وہ گندم خریدنے کی ڈیل کی جسے دنیا میں کوئی اس لئے نہیں خرید رہا تھا کہ جنگ کے باعث اس میں بارود کے اثرات تھے گندم یوکرین کے سٹوریج ہاوسز میں پڑی پرانی ہو رہی تھی جو مال سیل پر کباڑ کے دام بکنے کیلئے تیار تھا اس کی مارکیٹ پرائس سے کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کی ڈیل 

 اس پر ظلم یہ کہ ساری لاٹ ہی خرید لی اس پر عمل نگران دور میں ہوا جب کٹھ پتلیاں راج کر رہی تھیں جیسے کہا جاتا تھا ویسا ہو جاتا تھا
اس پر مستزاد یہ کہ یہ گندم جن بحری جہازوں پر آئی انہیں کئی ہفتے اسے ان لوڈ کرنے میں اس لئے لگے کہ یہ بڑے بڑے جہاز گوادر جیسی deep sea port پر آ سکتے تھے مگر امریکہ گوادر استعمال کرنے سے روک رہا تھا اس لئے یہ جہاز کراچی پورٹ سے قریبا 50 کلومیٹر دور لنگرانداز ہوئے جن سے چھوٹے جہازوں میں گندم بھر بھر کر لائی جانے سے سمندری ہوا کی نمی اس میں رچ گئی کسان اور اکثر عوام جانتے ہیں کہ گندم کیلئے نمی زہر قاتل ہے یہ گندم ملک بھر کے پاسکو سٹوریج ہاوسز میں سٹور کر دی گئی
منصوبہ یہ تھا کہ یہ خراب ، جنگ زدہ اور سیلی گندم ملک میں سپلائی کریں گے اور مقامی تازہ اور صحت مند گندم ایکسپورٹ کر دینگے پاسکو کے پاس سٹوریج کی جگہ پر یوکرین کی خراب گندم نے قبضہ کر رکھا ہے اور صوبائی حکومتوں کے پاس کسان سے گندم خرید کر رکھنے کی جگہ ہی نہیں اسلئے تھوڑی بہت جو گندم خریدی وہ بھی فلور ملز کو ڈائریکٹ بھجوا دی گئی
صوبائی حکومتیں سٹوریج نہ ہونے کے باعث بے بس ہیں لیکن انکی حکومت برقرار رکھنے کی مفاد پرستی انہیں سچ بتانے نہیں دیتی کہ پاکستان ، پاکستان کی زراعت اور ملکی مفاد کے ساتھ کس نے کتنا بڑا کھلواڑ کر دیا ہے
مقامی فصل کا بڑا حصہ سٹوریج نہ ہونے سے خراب ہو جائیگا یا کسان اپنی فصل سڑک پر رکھ کر 2000 روپے من بیچنے پر مجبور ہو گا اور حکومتی ایجنٹوں کے گدھ اس سے فائدہ اٹھائیں گے
کیا یہ کسان اگلے سال گندم لگائے گا؟ کیا اگلے سال ملکی ضروریات کیلئے گندم کی فصل دستیاب ہو گی؟ اس کا جواب حوصلہ افزا ہرگز نہیں
گماشتوں نے غیروں کیلئے اپنا گھر برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
میرے پاکستان تیرا کیا ہو گا؟

0 Comments:

Webistan