یہ میرا کھیل نہیں تھا بھائی


یہ میرا کھیل نہیں تھا بھائی،
میں تو ایک فل سپیڈ والی بلٹ ٹرین میں سوار تھا، میرے تو خواب تھے، کچھ کام تھے جو کرنے تھے، کچھ خواہشیں تھیں، کچھ ٹارگٹ تھے، کچھ تمنائیں تھیں، آرزوئیں تھیں، اور میں بالکل ان کے درمیان لٹکا ہوا تھا۔ اب کیا ہوتا ہے کہ اچانک پیچھے سے کوئی آکر میرے کندھا تھپتھپاتا ہے، میں جو مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ ٹکٹ چیکر ہے؛ ''تمہارا سٹاپ آنے والا ہے بابو، چلو اب نیچے اترو‘‘۔ میں ایک دم پریشان ہو جاتا ہوں؛ ''نہیں نہیں بھائی میاں، میری منزل ابھی دور ہے یار‘‘۔ اور پھر ٹکٹ چیکر مجھے سمجھانے والے انداز میں کہتا ہے؛ ''نہ، یہی ہے، سٹاپ تو بس یہی ہے، ہو جاتا ہے، کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے‘‘

”عرفان خان کا فوت ہونے سے پہلے ہسپتال سے خط.

0 Comments:

Webistan