پہلے شرم کی وجہ سے پردہ کیا جاتا تھا، اب پردہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے


**پہلے شرم کی وجہ سے پردہ کیا جاتا تھا، اب پردہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے زمانے کی تیزی سے بدلتی ہوئی قدروں اور رویوں نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب پردہ شرم اور حیا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ خواتین اپنے آپ کو پردے میں محفوظ اور باعزت محسوس کرتی تھیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کی عزت و تکریم کی نشانی تھا بلکہ معاشرتی امن و سکون کا بھی ضامن تھا۔ مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں پردہ کرنے والی خواتین کو بعض اوقات مذاق یا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ معاشرتی دباؤ اور جدیدیت کی دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش نے حیا اور شرم جیسے خوبصورت اقدار کو کمزور کر دیا ہے۔ پردہ کرتے ہوئے، آج کل کی خواتین کو شرم آتی ہے کہ کہیں انہیں پرانے خیالات کی مالک نہ سمجھا جائے۔ لیکن یاد رکھیں، پردہ اسلام کی ایک اہم تعلیم ہے اور اس کا مقصد خواتین کی عزت اور وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ پردہ نہ صرف ظاہری جسمانی حجاب ہے بلکہ یہ اندرونی روحانی حجاب کا بھی حصہ ہے، جو انسان کی نیت اور اعمال میں پاکیزگی پیدا کرتا ہے۔ہمیں اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہیے اور اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کر  رہے ہی

0 Comments:

Webistan